بومائی نے کابینہ میں توسیع کے امکان کو مسترد کردیا۔وزیراعلیٰ دو روزہ دورے پر دہلی پہنچے

بنگلور۔9/ستمبر۔ چیف منسٹر بسوراج بومائی جو دو دن کے قیام پر دہلی میں ہیں، نے کابینہ میں توسیع کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کی توسیع کے حوالے سے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔دہلی روانگی کے دوران بومائی نے صحافیوں کو بتایا کہ قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کی بیٹی کی شادی کے استقبالیہ میں ان سے ملاقات کی جائے گی۔ اس دوران ہم بات کر سکتے ہیں۔ لیکن، کابینہ کے خالی عہدوں کو پُر کرنے کے تناظر میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ریاستی کابینہ میں زیادہ سے زیادہ 34 وزراء ہو سکتے ہیں جبکہ اس وقت وزیر اعلیٰ سمیت کل 30 وزراء ہیں۔ صرف 4 عہدے خالی ہیں اور وزارتی عہدے کے کئی دعویدار ہیں۔ اس کی وجہ سے بومائی پر کابینہ میں توسیع کا دباؤ ہے۔ بومائی دو روزہ دورے پر چہارشنبہکی سہ پہر دہلی پہنچے۔ وہ چہارشنبہ کی رات واپس آئیں گے۔دوسری جانب پارٹی کے قومی صدر نڈا نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا۔ بی جے پی نے بیلگاوی اور ہبلی۔دھارواڑ میں کامیابی حاصل کی اور گلبرگہ میں دوسرے نمبر پر رہی۔ نڈ انے ٹویٹ کر کے ریاست کے عوام سے اظہار تشکر کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی پر اعتماد بحال کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔دہلی پہنچنے کے بعد بومائی نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور ریلوے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو سے ملاقات کی۔ بومائی نے کہا کہ ریاست کی ترقی سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نرملا سے ملاقات کے بعد، بومائی نے کہا، ”میں نے وزیر خزانہ پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ نبارڈ اور سڈبی ایک اسکیموں کو ایک ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ اور چھوٹی رقم کے قرضوں (مائیکرو فنانس) کو بڑے پیمانے پر نافذ کریں۔” چیف منسٹر نے جی ایس ٹی (سامان اور خدمات ٹیکس) کی وصولی اور ریاست میں معاوضہ کی زیر التواء رقم پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ویشنو کے ساتھ بات چیت میں، بومائی نے آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اسکیم کے لیے 4300 کروڑ کی مانگ کے ساتھ ریل منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!