کرناٹک: سرکاری محکموں سے بجلی کے بقایا بلوں کی وصولی کا چیلنج

بیدر۔24/مئی۔مختلف سرکاری محکمہ جات سے بجلی کے بقایا بلوں کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ عدم وصولی کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کرناٹک انرجی کارپوریشن (KPC) کو بھی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں، جس نے انہیں بجلی فراہم کی تھی۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بجلی ڈیوٹی کی عدم ادائیگی پر اس صارف کی بجلی کی سپلائی فوری طور پر بند کر کے کسی صارف کو یہ بقایا جات ادا کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ لیکن بجلی کی ڈیوٹی کی ادائیگی کے حوالے سے انتظامی محکموں کو متعدد خطوط لکھنے کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اس فیس کی ادائیگی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کر رہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق سال2021-22 میں ریاست کی سات میٹروپولیٹن بلدیات، مختلف میونسپل باڈیز، دیہی ترقی اور پنچایت راج، شہری ترقی، کمرشل ٹیکس، ریونیو، زراعت، باغبانی اور سماجی بہبود کے محکموں بشمول بجلی کے بل۔ مختلف محکموں میں 10 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ریاست کے مختلف اضلاع میں سرکاری دفاتر میں بجلی سپلائی کے بل ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔ دیہی ترقی اور پنچایت راج محکمہ کے پاس سب سے زیادہ 4,726 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ زیادہ تر پنچایتوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کی مختلف اسکیموں اور اسٹریٹ لائٹس کے لیے بجلی کے چارجز ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ جبکہ پنچایتوں کو جاری کی جانے والی گرانٹ کا 80 فیصد صرف بجلی کے بقایا چارجز اور ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!