کرناٹک اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام یومِ اردو اور یومِ تعلیم کی مناسبت سے مضمون نویسی پروگرام کا کامیاب انعقاد

کرناٹک اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام ’’یومِ اردو‘‘ اور ’’ یومِ تعلیم‘‘ کے موقع پر 28 نومبر 2023بمقام ’’کے۔یم۔ڈی۔سی بھون، بنگلورو‘‘ میں ’’مضمون نویسی‘‘ برائے ہائی اسکول، کالج اور پرائمری و ہائی اسکول کے اساتذہ کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں کرناٹک کے تقریباً ہر ضلع سے شرکاء نے شرکت فرمائی۔ صبح 9 بجے سے شروع ہونے والے اس ایک روزہ پروگرام میں دو تین حصہ بنائے گئے تھے۔ پہلے حصہ میں صبح10 تا 11 بجے تک مضمون نویسی اور چائے کے مختصر وقفہ کے بعد سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ سیمینار کی صدارت و افتتاح جناب نصیر احمد، پولیٹیکل سکریٹری برائے عزت مآب وزیر اعلیٰ، حکومت کرناٹک نے پودے کو پانی دے کر فرمائی۔ ڈاکٹر معاذالدین خان ، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے تمام کو ’’ہندوستان کا آئین‘‘ کی تمہید پڑھوائی۔ تمام حاضرین کھڑے ہوکر آئین کی تمہید کا حلف لیا۔ اس کے بعد علامہ اقبال کا لکھا ہوا قومی ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا۔۔ ہندوستاں ہمارا‘‘ پڑھا گیا۔ پروفیسر عقیل احمد، سابق وائس چانسلر، ینویپویا یونیورسٹی ، جناب یم اے خالد، کمشنر،اسکاؤٹس ، جناب عبیداللہ شریف، مدیر اعلیٰ، روزنامہ پاسبان، مبین منور، سابق چیرمین، کرناٹک اردو اکادمی، منیر احمد جامی، جناب اعظم شاہد، جناب محمد نذیر، یم۔ڈی، کے۔یم۔ڈی۔سی، محترمہ سلمہ فردوس، سکریٹری، کرناٹکا اسٹیٹ مینارٹی کمیشن ، ابراہیم نفیس، شاعر و مدیر اعلیٰ ، ہفتہ روزہ اونچی آواز مہمانانِ خصوصی شامل رہے ۔سیمینار کی نظامت منیر احمد جامی صاحب نے فرمائی۔ سیمینار میں منیر احمد جامی ’’ترانۂ ہند کا تاریخی پہلو اور اہمیت‘‘، ابرہیم نفیس ’’اردو سے ہماری محبت کیسی ہو؟‘‘، مبین منور ’’ہندوستان میں اردو کا فروغ‘‘، کے افتخار احمد شریف ’’اردو زبان کے فروغ کے لئے کس طرح کے اقدامات درکار ہیں؟‘‘ ، محمد عبید اللہ شریف ’’اردو مدارس میں طلباء کے ترکِ تعلیم  Drop Out  کے رجحان پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے؟‘‘ اور محمد اعظم شاہد نے ’’ہندوستان کی آزادی میں ڈاکٹر اقبالؔ، حضرت ٹیپو سلطانؒ اور ابوالکلام آزاد کا رول‘‘ پر اظہارِ خیال پیش کئے۔ ظہرانہ کے بعد اختتامیہ و جلسہ تقسمِ انعامات میں جناب منوز جین، سکریٹری، محکمہ ء اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف اور جناب محمد محسن، آئی۔ اے۔ یس، سکریٹری ، محکمہء محنت بطور مہمانانِ خصوصی شامل رہے۔ مضمون نویسی مقابلوں میں ہائی اسکول سطح میں اول انعام  مہرالنساء ، ہدا نیشنل اسکول، بنگلورو، دوم انعام امہ زیبا،ہدا نیشنل اسکول، بنگلورو اور سوم انعام سمیہہ زیتول یادیں، ہدا نیشنل اسکول، بنگلورو نے حاصل کئے اور کالج سطح کے مقابلوں میں زوہا تحریم، رابعہ پی یو کالج، ساگر، شیموگہ، حمیرا خانم، گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج، چامراج پیٹ اور نور فاطمہ جے۔یس، آئی بی یم پی یو کالج، بنگارپیٹ نے حاصل کیا۔ کسی بھی مقابلے میں کبھی کبھی اتفاق ہوتا ہے کہ ایک سے زائد لوگوں کو ایک ساتھ اُسی انعام کے لئے منتخب کرنا پڑتا ہے اس بارمضمون نویسی مقابلے میں اساتذہ زمرہ میں ہر مقام کے لئے دو امیدواروں کو انعام سے نوازا گیا۔ ’اول انعام‘ محترمہ نسرین تاج ، GUMHPS،ملباگل، محترمہ ثریہ خانم GUHPS ملباگل’دوم انعام ‘زرینہ بی خیراتی، GUHPS، بنگلورو، ناہد اختر، ہدا نیشنل اسکول، بنگلورو اور اسی طرح سید ضیاء اللہ،GUHPS، دیوسندرا اور سمیناکوثر،GBHS، چنتامنی نے ’سوم انعام‘ حاصل کیا۔ کرناٹک اردو اکادمی سے شائع کردہ ’’30 دنوں میں اردو سیکھئے‘‘ کتاب کی رسمِ اجراء بدست محمد محسن صاحب اور منوز جین صاحب عمل میں آئی۔ ڈاکٹر معاذالدین خان ، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے آئے ہوئے تمام مہمانان اور حصہ لینے والے تمام طلباء و اساتذہ اور مضمون نویسی میں اردو اکادمی کا ساتھ دینے عبدالعزیز صاحب، کوآرڈینیٹراور ان کی پوری ٹیم کے علاوہ پروفیسر عقیل احمد، سابق وائس چانسلر، ینویپویا یونیورسٹی جو ان مقابلوں کے چیف ایوالیوشن افسر تھے اسی طرح محترمہ سلمہ فردوس، سکریٹری، کرناٹک اسٹیٹ منارٹیز کمیشن، ایوالیوشن افسر اورجانچ کے لئے آئے ڈاکٹر انوپما پول، ڈاکٹر آر محمد عمری، جناب امداد اللہ، ڈاکٹر منظور نعمان، ڈاکٹر فجیحہ سلطانہ ، محترمہ یاسمین بیگم، انورالحسن، جناب ذبیح اللہ، محترمہ اسمہ پروین ، صبیحہ فاطمہ، محترمہ فرید النساء  اور مجاہد پاشاہ کے علاوہ آئے ہوئے تمام میڈیا اور دیگر حاضرین کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!