شخصی ارتقاء

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ

پرسنالٹی ڈیولپمنٹ ان دنوں ایک فن بن گیا ہے اور اس کی تربیت کے لیے بار بار پروگرام کرائے جاتے ہیں ، اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر آدمی شخصی ارتقاء کا متمنی ہو تا ہے اور وہ اپنی شخصیت کی تشکیل کر کے اپنے ہم عصروں میں ممتاز بننا چاہتا ہے ، یہ ایک فطری خواہش ہے ، خواہش اور خواب اسی وقت حقیقت بنتے ہیں ، جب آدمی اس کے لیے جد و جہد کرتا ہے ، اے پی جے عبد الکلام کا مشہور قول ہے کہ خواب وہ نہیں جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے ہیں ، خواب وہ ہوتے ہیں ، جس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کی نیند اڑ جاتی ہے ، کوشش جب اس انداز کی ہوتی ہے ، تب شخصیت کا ارتقاء ہو تا ہے ، یقینا مقدرات بھی اٹل ہیں ، لیکن ہمیں اس کا پتہ نہیں ، اس لیے ہم تو کوشش کے پابند ہیں اور قرآن کریم کی آیت جس میں کہا گیا ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے ، جس کے لیے وہ کوشاں ہوتا ہے ، الٰہی مژدہ ہے، جو ہمیں جہد مسلسل پر ابھارتا ہے ۔
ہر آدمی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بہت ساری صلاحیتیں رکھی ہیں ، یہ صلاحیتیں محنت کے نتیجے میں باہر آتی ہیں ، اگر آپ محنت نہ کریں تو یہ صلاحیتیں سو جاتی ہیں ، اور جس طرح زمین پر محنت نہ کی جائے تو وہ بنجر ہو جاتی ہے اور اس کی زرخیزی کا خاتمہ ہو جا تا ہے ، ویسے ہی صلاحیتیں بروئے کار نہ لائی جائیں تو دھیرے دھیرے وہ صلاحیتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں ، دم تو ڑ دیتی ہیں ، اس لیے اگر شخصیت کا ارتقاء چاہتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ اپنی خفیہ صلاحیتوں کا ادراک اور منصوبہ بندی میں وسائل کی کمی کے با وجود اچھے نتائج کے حصول کا خیال رکھئے ، واقعہ یہ ہے کہ جتنی صلاحیتیں آپ کام میں لا رہے ہیں ، اس سے بہت زیادہ بے توجہی کی وجہ سے معطل پڑی ہوتی ہیں ، تعطل دور کرتے ہی آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے سامنے ترقی کا بڑا وسیع میدان ہے ، آپ زندگی کی رونق اپنے باہر تلاش کر رہے تھے ، حالانکہ وہ تو آپ کی ذات کے اندر قدرت نے محفوظ کر رکھا تھا ، منصوبہ بنانے اور اس پر عمل درا ٓمد کرنے میں غلطیوں سے مت گھبرائیے، غلطیوں کے بعد ہی آگے کا راستہ کھلتا ہے،غلطیوں سے ہمیں بہت کچھ سیکھ ملتی ہے ، ہم جب آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ڈر ، خوف، جھجھک اور شرم ہمارے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں ، کچھ جاننے کی خواہش میں ان چیزوں کو حائل نہ ہونے دیجئے ، بے شرمی بُری بات ہے ، لیکن معلومات کے حصول میں شرم کرنا علم کے دروازے بند کرتاہے ، اسی لیے سوال کو آدھا علم کہا گیا ہے ، اگر آپ کے ذہن میں سوالات کھڑے ہوتے ہیں تو ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں شرم بالکل مت کیجئے ،علم کے جتنے ذرائع ہیں اس کو بروئے کار لائیے ، جاننے والوں سے پوچھ کر اپنے علم میں اضافہ کیجئے ، پھر اس اضافہ شدہ علم کو تجربات کی کسوٹی پر جانچئے ، پرکھئے ، دوسروں نے جو کہہ دیا اس پر آمنا وصدقنا کہنا ضروری نہیں ہے ، قرآن کریم میں بار بار غور و فکر کی تلقین کی گئی ہے ، غور و فکر کی عادت ڈالئے ، دل و دماغ کے فیصلے پر عقل کو پاسبان بنائیے ، اسے جذبات کی رَو میں تنہا مت چھوڑئے ، جو ش کے بجائے ہوش سے کام لیجئے ، اہداف اور منزل کی تعیین کیجئے ، وقت کی قدر کیجئے اور اس کا صحیح استعمال کیجئے ، آج کل نیٹ اور سوشل میڈیا نے ہمار ے اوقات پر شب خون مارا ہے اور بہت سارا وقت غیر ضروری میسج کے پڑھنے اور جواب دینے میں گذر جاتا ہے ، اوقات کی تقسیم کر لیجئے ، نظام الاوقات بنائیے ، آپ دیکھیں گے کہ آپ کے کام میں برکت ہو رہی ہے ، ہر کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالنے کی وجہ سے سارا کام وقت پر ہو گا اور ٹائم پاس کرنے کی نوبت نہیں آئے گی ، یقین جانئے ، سب سے بہتر دوست بھی آپ کے اندر رہتا ہے اور سب سے بد ترین دشمن بھی آپ کے اندرجا نشیں ہے، یہ آپ کی قوت ارادی کا کمال ہو گا کہ آپ اپنے اندر کے دوست سے کام لیتے ہیں یا آپ کے اندر کا دشمن آپ پر سوار ہو جا تا ہے۔ ہر حال میں خوش رہنے کی عادت ڈالیے ، خوش رہنے والا شخص خوشیاں بانٹنے کا کام کرتا ہے ، اپنے بھائیوں سے خوش خلقی سے پیش آنا اسلامی اور ایمانی تقاضہ ہے، چہرے کا ہلکا سا تبسم آپ کو دوستوں میں مقبول کر دے گا۔
آپ خوب جانتے ہیں کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہو تا ہے ، اوپر والا ہاتھ دینے والا ہو تا ہے ، سماج کو کچھ دیتے رہئے ، لینے کا مزاج نہ بنے تو بہتر ہے ، حالات میں بڑی تبدیلی کے با وجود ایثار و قربانی کا ہتھیار ہر دور میںدوسرے اسلحوں پر غالب آتا رہا ہے ۔ اگر آپ دینے والے بن گئے تو لو گ آج بھی آپ کو ہاتھوں میں لینے کو تیار ہوں گے ۔ آپ کی صلاحیت کا صحیح مصرف بھی ہو گا اور کامیابی بھی آپ کے قدم چومے گی ۔ ان راستوں پر چلنے کا عزم کیجئے آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی شخصیت کا ارتقاء ہو گیا ہے اور آپ کو پرسنالٹی ڈیولپ کرنے کے لیے کسی لکچر کی ضرورت نہیں ہے۔

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!