سدرامیا حکومت کا بجٹ اقلیتوں کیلئے بمپر کی مانند: کنیز فاطمہ

ملک کی کسی ریاست نے پہلی بار اقلیتوں کیلئے تین ہزار کروڑ کے بجٹ کا اعلان کیا

گلبرگہ19فروری(ای میل) کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن کی چیئرپرسن و گلبرگہ شمال سے کانگریس ایم ایل اے محترمہ کنیز فاطمہ نے سدرامیا کے پیش کردہ بجٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اقلیت نواز بجٹ قرار دیا۔ محترمہ کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ آزاد ہند کی تاریخ میں پہلی بار کسی ریاست کے بجٹ میں اقلیتوں کو تین ہزار کروڑ سے زائد کا بجٹ الاٹ کیا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ کی ریاست کی کانگریس حکومت اقلیتوں کی مجموعی ترقی کیلئے پابند عہد ہے۔ گلبرگہ شمال ایم ایل اے کا کہنا ہے کہ ہے بجٹ میں ا قلیتوں کی تعلیمی،معاشی واقتصادی، کاروباری امور کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اوقافی املاک کے تحفظ و فروغ کیلئے بھی سو کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں۔ کے ایس آئی سی چیئر پرسن کا کہنا ہے کہ ریاستی بجٹ میں اقلیتوں کیلئے3353کروڑ روپیوں کا حصہ رکھا گیا ہے جو کہ قابل ستائش بات ہے۔ سدرامیا نے اس طرح کاا قلیت نواز بجٹ پیش کرکے خود کو ایک آہندہ لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک غیر جانبدار لیڈر بھی ثابت کیا ہے۔ محترمہ کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ الیکشن سے پہلے کانگریس اور سدرامیا نے جو جو وعدے کئے تھے۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مرحلہ وار اقدامات شروع کئے جا چکے ہیں۔ جس کی جھلک اس بجٹ میں ملتی ہے۔ وزیر اعظم مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس جیت جھوٹے وعدے کرتے ہیں لیکن سدرامیا نے اپنے بجٹ میں یہ کر دکھایا ہے۔ انھوں نے اپنے بجٹ میں ریاست کے ہر طبقے کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ 50مرار جی دیسائی ریسڈنشل اسکول اورایک سو مولانا آزاد اسکول اور25 نئے پی یو کالجس کھولنے کا اعلان کرکے اقلیتوں کی تعلیمی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے ایک مضبوط قدم اٹھایا ہے۔ ساتھ ایک سو ہاسٹلس کھولنے کا اعلان کرکے اور فیس ریمبرسمنٹ اور ودیا شری اسکیم اور پوسٹ رک و پری میٹرک اسکالر شپ کا اعلان کر کے اقلیتوں کو ایک سوغات دی ہے۔ سی ایم نے فیس ریمبرسمنٹ او ر اسکالر شپ کیلئے190کروڑ روہئے رکھے ہیں۔ اور ودیا شری کیلئے25کروڑ روپئے رکھے ہیں۔ کرناٹک اردو اکاڈمی کیلئے دیڑھ کروڑ روپئے اور کرناٹک اقلیتی کمیشن کیلئے ڈھائی کروڑ کا بجٹ الاٹ کرکے بھی سدرامیا نے مسلمانوں کی ثقافت و شناخت کو مضبوطی فراہم کی ہے۔ محترمہ کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کیلئے بھی سدرامیا نے اپنے بجٹ میں خاص خیال رکھا ہے۔ اقلیتی اکثریتی کالونیوں میں بنیادی سہولتوں کی تعمیر کیلئے چار سو کروڑ روپئے رکھے ہیں۔ ائمہ موذنین کے مشاہیرہ کیلئے80کروڑ روپیوں سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی وقف بورڈ سے منسلک اماموں اور متولیوں کو حالات حاضرہ سے با خبر رکھنے کیلئے ورکشاپس کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ سی ایم سدرامیا مسلمانوں کی مذہبی قیادت اور عبادتگاہوں کے تعلق سے بھی فکر مند ہیں۔ گلبرگہ شمال ایم ایل اے کا کہنا ہے کہ کے ایم ڈی سی کو393کروڑ روپیوں کا بجٹ بھی قابل ستائش ہے اور ساتھ ہی کرناٹک اسٹیٹ فینانشل کارپوریشن سے اقلیتی صنعتکاروں کو دس کروڑ تک کے لون کیلئے سود میں چھ فیصد کی سبسڈی بھی اقلیتوں کیلئے ایک بڑی راحت کی بات ہے۔ اس سے مسلم تاجروں اور صنعتکاروں کو کافی فائدہ ہو گا۔ اس موقع پر محترمہ کنیز فاطمہ نے کچھ حد تک مایوسی کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گلبرگہ میں حج بھون کی تعمیر ایک دیرینہ خواب ہے۔ جسے مرحوم رہنما قمر الاسلام شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے تھے، لیکن وقت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اسلئے امید تھی کہ اس بار کے بجٹ میں منگلورو کے ساتھ ساتھ گلبرگہ میں بھی حج بھون کی تعمیر کیلئے بجٹ کا اعلان کیا جائیگا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ محترمہ کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ2018میں ہی اسوقت کء وزیر حج ضمیر احمد خان کو گلبرگہ میں حج بھون کی تعمیر کیلئے یاداشت پیش کی گئی تھی جس پر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ گلبرگہ شمال ایم ایل اے نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں گلبرگہ حج بھون پروجیکٹ کیلئے خطیر رقم منظور کی جائیگی۔

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!