صغریٰ عالم کرناٹک کی قابل فخر شاعرہ

تریاق کے صغریٰ عالم نمبر کا اجراء ، تریاق کی ادب نوازی کی ستائش

گلبرگہ 27 نومبر : ڈاکٹر صغریٰ عالم صاحبہ بجا طور پر کرناٹک کی قابل فخر شاعرہ تھیں ماہنامہ تریاق ممبئی نے انہیں فخر کرناٹک کا لقب دیا ہے وہ شعری معیار و ادبی خدمات کے لحاظ سے اس لقب کی مستحق ہیں اس خیال کا اظہار سرکردہ ادیب و نقاد دانشور پروفیسر حمید سہروردی سابق صدر شعبہ اردو گلبرگہ یونیورسٹی نے کیا ہے وہ حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ اور تریاق رائٹرز کلب ممبئی کے زیر اہتمام منعقدہ ماہنامہ تریاق ممبئی کے صغریٰ عالم نمبر کی تقریب رسم اجراء ادبی و شعری نشست کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مخاطب کررہے تھے یہ تقریب انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے حضرت خواجہ بندہ نواز ایوان اردو میں منعقد ہوئی اس تقریب کی خصوصیت یہ رہی کہ نماز اور طعام کے وقفہ کے ساتھ یہ تقریب زائد از ساڑھے چھ گھنٹے تک جاری رہی گلبرگہ میں اس قدر طویل دورانیے کے ساتھ شائد کوئی ادبی شعری تقریب منعقد ہوئی ہو پروفیسر حمید سہروردی صاحب نے موجودہ دور کو بے حسی کا دور قرار دیتے ہوئےکہا کہ ماہنامہ تریاق ممبئی کے مدیر اعلیٰ نائب مدیر میر صاحب حسن اور حنیف قمر قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ہمارے شہر کی نمائندہ شاعرہ ڈاکٹر صغریٰ عالم صاحبہ پر خصوصی نمبر شائع کرتے ہوئے ان کی مجموعی خدمات کا احاطہ کیا اور ان کی یادوں کو تازہ کیا پروفیسر حمید سہروردی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صغریٰ عالم نے بہت کم عرصہ میں بہت سے اصناف سخن میں طبع آزمائی کی انہوں نے اپنی اصلاحی و موضوعاتی شاعری کے ذریعے ادب میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار و شاعر ڈاکٹر انجم شکیل احمد واحتہ الشفاء اسپتال مدینہ منورہ نے ماہنامہ تریاق ممبئی کے ڈاکٹر صغریٰ عالم نمبر کا اجراء کیا اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صغریٰ عالم صاحبہ ایک اچھی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ کامیاب معلمہ بھی تھیں انہوں نے میر صاحب حسن اور حنیف قمر صاحب کی ادبی خدمات کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تریاق صرف ادبی رسالہ نہیں ہے بلکہ اس میں ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ تریاق کے ذریعہ ادبا و شعرا پر خصوصی نمبر شائع کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ ان کے ادبی ورثہ کو محفوظ کرنے کا قابل قدر کام ہورہا ہے پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید اکبر صدر شعبہ اردو کے بی این یونیورسٹی گلبرگہ نے تقریب کی صدارت کی انہوں نے صدارتی تقریر میں صغریٰ عالم کے ادبی مقام کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ صغریٰ عالم کا ادبی و شعری سرمایہ تحقیقی انداز لئے ہوئے ہے ڈاکٹر عبد الحمید اکبر نے مزید کہا کہ ان کے فنی معیار سے پتہ چلتا ہے کہ علم عروض میں ان کو بڑی مہارت حاصل تھی انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صغریٰ عالم ادب و تدریس کے حوالے سے نہایت ایماندار رہیں ممتاز ادیبہ و افسانہ نگار ڈاکٹر کوثر پروین نے بحیثیت شاگرد ڈاکٹر صغریٰ عالم کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان سے جڑی کئی یادوں کو تازہ کیا جن سے سامعین کو ان کی شخصیت کی قامت و قیمت کا اندازہ ہوا ڈاکٹر کوثر پروین نے ان کی تدریسی و ادبی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ صغریٰ عالم صاحبہ گلبرگہ کی واحد شاعرہ تھیں وہ نہایت صاف گو ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی قدر شناس بھی تھیں کسی کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا اعتراف کرنے میں انہوں نے کبھی اپنے آپ کو چھوٹا محسوس نہیں کیا صغریٰ عالم صاحبہ سادگی پسند اور وضعدار ہونے کے علاوہ اردو تہذیب کی پاسدار تھیں ڈاکٹر کوثر پروین نے سلیمان خطیب کے اہل خانہ کی طرح صغریٰ عالم کے علمی ادبی ورثہ کو محفوظ کرنے صغریٰ عالم کے اہل خانہ پر زور دیا ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے صغریٰ عالم نمبر کی اشاعت پر میر صاحب حسن اور حنیف قمر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ کو تریاق کے ذمہ داران نے وطن ثانی بنالیا ہے انہوں نے ڈاکٹر صغریٰ عالم کی ادبی و تدریسی خدمات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی ذہین اور نہایت حساس خاتون تھیں ممتاز ادیبہ شبینہ اسلم فرشوری حیدرآباد نے گلبرگہ کے ادبی ماحول کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے ڈاکٹر صغریٰ عالم صاحبہ کے بارے میں کہا کہ صغریٰ عالم نے بہترین ادیبہ و شاعرہ کی حیثیت سے ادب میں مقام بنانے کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی کو بھی مثالی بنانے میں کامیاب رہیں
ممتاز ادیبہ و شاعرہ ڈاکٹر مہر افروز نے ڈاکٹر صغریٰ عالم کی شاعری کو نہایت عمدہ اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجسس ان کی شاعری کا امتیاز ہے ڈاکٹر مہر افروز نے مزید کہا کہ ان کی ڈاکٹر صغریٰ عالم سے ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن انہوں نے ڈاکٹر صغریٰ عالم سے ریڈیو پر بولنا سیکھا جب وہ آل انڈیا ریڈیو دھارواڑ سے وابستہ ہوئیں تو انہوں نے آل انڈیا ریڈیو گلبرگہ سے نشر ہونے والے صغریٰ عالم صاحبہ کے اردو پروگراموں کو سن کر اپنا تلفظ درست کیا انہوں نے ماہنامہ تریاق ممبئی کی اشاعت میں درپیش دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے گلبرگہ کے ادبا و شعرا اور اہل علم و اہل ثروت سے تریاق کا تعاون کرنے کی دردمندانہ اپیل کی حنیف قمر نائب مدیر ماہنامہ تریاق ممبئی نے کہا کہ صغریٰ عالم صاحبہ نے جب صفحہ قرطاس پر لکھنا شروع کیا تو انہوں نے سب سے پہلے نعت لکھی ان کی نعتوں میں عشق رسول کا جذبہ نمایاں ہے ایسا لگتا ہے کہ اسی جذبہ کا صلہ ہے کہ ماہنامہ تریاق ممبئی کے ڈاکٹر صغریٰ عالم نمبر کے اجراء کیلئے مدینہ منورہ سے ڈاکٹر انجم شکیل احمد گلبرگہ تشریف لائے میر صاحب حسن مدیر اعلیٰ تریاق ممبئی نے کہا کہ کوویڈ کی وجہ سے تریاق کے صغریٰ عالم نمبر کی اشاعت التوا کا شکار ہوگئی تھی تاہم جاریہ ماہ اس کی اشاعت عمل میں لائی گئی میر صاحب حسن نے مزید کہا کہ گلبرگہ میں کئی ایک نامور و قدآور ادبی شخصیات موجود ہیں جن کی خدمات اور فن پر تریاق کے خاص نمبر شائع کرنے کا منصوبہ ہے میر صاحب حسن نے ماہنامہ تریاق ممبئی کا اگلا خصوصی نمبر ممتاز ادیب نقاد و شاعر سینئر صحافی حامد اکمل پر شائع کرنے کا اعلان کیا سینئر صحافی عزیز اللّٰہ سرمست مدیر روزنامہ بہمنی نیوز گلبرگہ و صدر حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے ابتدائی خطاب میں ماہنامہ تریاق ممبئی میں گلبرگہ کے ادبا و شعرا کو نمایاں مقام دینے کیلئے مدیر اعلیٰ میر صاحب حسن اور نائب مدیر حنیف قمر کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ کے ادبا و شعرا اپنی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر قومی و عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام نے ادب کو اصلاح کا ذریعہ بنایا وہی ادب شاہکار ہے جو اصلاحی پہلو پر مشتمل ہے عزیز اللّٰہ سرمست نے صغریٰ عالم صاحبہ کے بارے میں بتایا کہ وہ ہمیشہ ظلم اور ناانصافی کیخلاف کھڑی ہوتیں ان کے اسی وصف کی وجہ سے ان کے اخبار روزنامہ بہمنی نیوز گلبرگہ پر مقدمہ دائر ہوا تھا اسماعالم دختر ڈاکٹر صغریٰ عالم نے صغریٰ عالم صاحبہ کے سوانحی حالات پر مضمون پیش کرتے ہوئے درون خانہ اور بیرون خانہ صغریٰ عالم صاحبہ کے کردار کو نمایاں کیا اور ان کی زندگی کے کئی اہم گوشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اسما عالم نے اپنی والدہ ڈاکٹر صغریٰ عالم کی یاد میں نظم بھی سنائی جسے سامعین نے خوب سراہا قبل ازیں کارروائی کا آغاز مولوی محمد مظہر احمد گرمٹکالی کی حمد اور طیب علی یعقوبی کی نعت خوانی سے ہوا انجنئیر سید نیر خورشید سول ڈسٹری بیوٹر کرناٹک ماہنامہ تریاق ممبئی نے خیر مقدم کیا مولانا محمد نوح ریاستی جنرل سیکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ کرناٹک ڈاکٹر ظہیر شیخ مینجنگ ڈائریکٹر فارچون اسکول گلبرگہ شیخ عبداللہ مسرور رکن مجلسِ مشاورت تریاق ممبئی نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی سینئر صحافی و شاعر حامد اکمل شہ نشین پر رونق افروز رہے شاعر و صحافی مبین احمد زخم نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کی ڈاکٹر صغریٰ عالم کی بڑی صاحبزادی امتہ الصالحہ انعامدار صغریٰ عالم کے اہل خانہ کے علاوہ معززین و باذوق سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کی بعد ازاں حامد اکمل کی زیر نگرانی پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید اکبر کی زیر صدارت شعری نشست منعقد ہوئی 15 میزبان و مہمان شعراء نے کلام سناکر سامعین نہ صرف محظوظ کیا بلکہ مشاعرہ میں آخر تک سامعین کی دلچسپی کو برقرار رکھا صدر مشاعرہ نے صدارتی تاثرات میں اس خیال کا اظہار کیا کہ انہوں نے ایسی کامیاب اور پر اثر شعری نشست بہت کم دیکھی جس میں شعراء اور سامعین کے مابین شعر گوئی اور شعر فہمی کا متاثر کن ماحول پایا گیا آخر میں اسما عالم نے اظہار تشکر کا فریضہ انجام دیا

Latest Indian news

Popular Stories

error: Content is protected !!